117

خواجہ سرا، ہیجڑا،کھسرا! آپ مرد ہیں تو کیا آپ نے خود اپنی جنس منتخب کی تھی؟ آپ عورت ہیں تو کیا آپ اپنی مرضی سے عورت پیداہوئیں ؟

خواجہ سرا، ہیجڑا،کھسرا!

آپ مرد ہیں تو کیا آپ نے خود اپنی جنس منتخب کی تھی؟
آپ عورت ہیں تو کیا آپ اپنی مرضی سے عورت پیداہوئیں ؟
جب جنس کے معاملے میں انسان بے اختیار ہے تو خواجہ سراؤں کو جنسی بنیادوں پر ذلت کی علامت کیوں بنادیا گیاہے ؟
ایک لمحے کو تصور کیجئے تیسری جنس کابچہ میرے یا آپ کے گھر بھی پیدا ہوسکتاہے۔ایسے بچے کو محد سے لحد تک اپنوں اورپرائیوں کی جس بے رخی کاسامنا کرنا پڑتا ہے، کیا میں اور آپ اپنے بچوں کے ساتھ ویسارویہ برداشت کر پائیں گے؟
وہی بچہ جو جنس معلوم ہونے سے پہلے تک والدین کی آنکھوں کا تارہ ہوتا ہے،جنس معلوم ہوتے ہی پرایا بنادیاجاتاہے ۔ گھر کے چوکھٹ پہ اس کی قدم رنجگی حرام قرار دے دی جاتی ہے ۔ کیا والدین ایسا بخوشی کرتے ہیں ؟
نہیں، ایسا سوسائٹی کے ذلت آمیز رویے کے دباؤ میں آکے کیاجاتاہے۔
جہاں ایک طرف ریاست خواجہ سراؤں کو تفریح کا سامان سمجھنے کی بجائے معاشرے میں جائز مقام دلانے کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے وہیں دوسری طرف آفتاب اقبال اور عائشہ جہانزیب جیسے اینکر ہرشام مین سٹریم میڈیا پہ بھانڈوں پر مشتمل محفل سجالیتے ہیں جس میں تفریح کے نام پہ خواجہ سراؤں کی بلاناغہ تضحیک کی جاتی ہے۔یوں آئندہ نسلوں کے ذہن میں بھی نفرت کا وہی زہر انڈیلا جارہاہے جو پچھلی نسلوں کے رگ وپے میں ان بھانڈوں نے اتارا۔ میڈیا اس معاملے میں خود ہے بینیفشری ہے سواس سے تو اصلاح احوال کی توقع بھی نہیں،انسانی حقوق کی تنظیموں ،پیمرا اور وزارت اطلاعات کی خاموشی بھی مجرمانہ ہے۔ بے حسی کے اسی روئیے کی بدولت خواجہ سراوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی خبریں آئے روز میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں، گویا ڈبل فائدہ۔
خدا کو مخلوق بہت عزیز ہے اور اس کی تقسیم کے پیچھے مصلحت بھی صرف وہی جانتاہے۔ ڈرو اس وقت سے جب حقوق العباد کی پامالی کے جرم میں خداکی عدالت میں دھر لئیے جاوگے اور یہ توسنا ہی ہوگا خداکی کورٹ میں حقوق العباد کی پامالی ناقابل ضمانت جرم ہے۔
محترم دوست Abd Ghaffar Chheenah کا کڑوا سچ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں