15

ڈیرہ اسماعیل خان(نثاربیٹنی سے)صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 99 سے سابق امیدوار سردار فریدون خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ منتخب ایم پی اے آغاز اکرام خان  گنڈاپور نے عدالت سے حقائق چھپاتے ہوئے ڈگری حاصل کی جس کے خلاف میں نے نظرثانی کی درخواست دے دی

ڈیرہ اسماعیل خان(نثاربیٹنی سے)صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 99 سے سابق امیدوار سردار فریدون خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ منتخب ایم پی اے آغاز اکرام خان  گنڈاپور نے عدالت سے حقائق چھپاتے ہوئے ڈگری حاصل کی جس کے خلاف میں نے نظرثانی کی درخواست دے دی ہے جس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، ڈیرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے میری درخواست ہے کہ میری درخواست پر کیس کو ٹارگٹ کیس بناکر اس کا جلد از جلد فیصلہ سنایا جائے مجھے عدالتوں پر مکمل اعتماد ہے فریق مخالف سچ کا سامنا کرنے کے بجائے تاخیری حربے استعمال کرکے کیس کو طوالت دینا چاہتے ہیں مگر ابھی تک ماتحت عدالتوں نے ان کے ان تاخیری حربوں پر مبنی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے حق اور انصاف کا بول بالا کیا ہے انہوں نے کہا کہ آغاز اکرام خان گنڈہ پور کی جانب سے 2014 میں تاریخ پیدائش 1990 کرنے کی درخواست دی گئی مگر بعدازاں عدم پیروی پر وہ خارج ہو گئی 8 اپریل 2017 کو پھر سرسبزی کیس کی درخواست کی مگر عدالت نے اسے بعد از وقت قرار دے کر مستردکر دیا 27 جولائی 2017 کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے درخواست دے کر جرمانہ کے بعد مذکورہ درخواست دوبارہ ماتحت عدالت میں دی گئی جس میں خود آغاز خان کی جانب سے یہ تحریر کیا گیا کہ میری تاریخ پیدائش انیس سو نوے نہیں ہے بلکہ انیس سو بیانوے ہے عدالت نے وہ درخواست منظور کی اور اس کو انیس سو بیانوے کی ڈگری دی جس پر آغاز خان نے اپنا شناختی کارڈ بنوایا اور الیکشن کے لیے خود کو اہل قرار دیا مگر آغاز  خان کی جانب سے عدالت کو حقائق نہیں بتائے گئے تاریخ پیدائش کی تبدیلی میں متعدد محکموں کو ضروری پارٹی بنایا جاتا ہے مگر انہیں فریق نہیں بنایا گیا اسی طرح یونین کونسل کے سیکرٹری کے رجسٹر میں ان کی تاریخ پیدائش بھی انیس سو پچانوے درج ہے یوں ایک شخص جو عدالت کو غلط ریکارڈ فراہم کرکے خود کو الیکشن کے لئے اہل قرار دے چکا ہے اس کے اس دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنے کے لئے میرا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے مگر آغاز خان اس کیس کا سامنا کرنے کے بجائے اس کو طول دینے پر گامزن ہے مگر عدالت نے دو روز قبل بھی آرڈر سیون رول 10 کی درخواست کو خارج قرار دے کر حق کا ساتھ دیا ہے انہوں نے کہا ایک شخص جب عدالت کو مس گائیڈ کرکے غلط ڈگری لے اور اس کی بنیاد پر عوامی نمائندہ بنے وہ بنیادی طور پر عوامی نمائندہ بننے کا اہل نہیں ہے اس نے عدالت کو مس گائیڈ کیا ہے میں آخری دم تک عدالتی جنگ جاری رکھوں گا تاہم میری چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے  درخواست ہے کہ اس کیس کو ٹارگٹ کیس قرار دے کر اس کی جلد سماعت اور فیصلے کو یقینی بنایا جائے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں