35

ہم نہیں بھولے تحریر: محمد عمر وقار اعوان

ہم نہیں بھولے
تحریر: محمد عمر وقار اعوان

وہ ظلم نہیں بھولے، وہ شہادت نہیں بھولے
معصوم فرشتوں کی وہ عبادت نہیں بھولے
بارود کے شعلے وہ تڑ پتے ہوۓ بچّے
ہم لوگ ابھی تک وہ قیامت نہیں بھولے
16 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن جب ناپاک ہاتھوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دن دیہاڑے خون کی ایسی بھیانک ہولی کھیلی کہ جس سے ہر دل لرز اٹھا۔ یہ کہنا سو فیصد درست ہو گا کہ ایک ایسا دن جب ماٶں نے سب سے زیادہ آنسو بہاٸے ہوں گے، بیگناہ معصوم بچوں کے قتل عام پر ہر آنکھ اشک بار ہو گی، کسی نے اپنا بھاٸی کھویا ہو گا، کسی نے اپنا بیٹا، کسی نے اپنی بہن تو کسی نے اپنی ماں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں پر ایسے واقعات کٸی بار وقوع پذیر ہوٸے ہوں گے مگر معصوم کلیوں کو مسلنے کی جو تکلیف 16 دسمبر کو پشاور میں دی گٸی اس کو پوری دنیا میں انسانیت نے محسوس کیا۔ نا صرف محسوس کیا بلکہ اشک بھی بہاٸے اور مذمت بھی کی۔ کیونکہ موقع ہی ایسا تھا کہ سارے کا سارا گلستان اجڑ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سماں تباہ ہو گیا تھا۔ ننھے منے پھول یکدم مرجھا گٸے۔ شیطانی قوتوں کی اس ہولناک حرکت پہ فضا بھی نادم تھی۔ ہر ذی شعور انسان اس گھناٶنے فعل پہ آواز اٹھا رہا تھا۔ دشمن کی صفوں میں بھی کھلبلی مچ گٸی تھی کی ہم یہ کیا حرکت کر بیٹھے ہیں۔ اچانک سے تمام خوشیاں تھم جاتی ہیں۔ ہنسی اور مسکراہٹیں غاٸب ہو جاتی ہیں، ہر کوٸی اداس ہو جاتا ہے۔
*نشاطِ لمحہ کی وہ قیمتیں چکاٸی ہیں*
*اب زرا سی مسرت پہ لرزتا ہے*
میرا وجدان کہتا ہے کہ شاید اس دن کسی ننھے پھول کی سالگرہ ہو، کسی بچے کے والد نے کہا ہو کہ آج شام ہم سیر پہ جاٸیں گے، کسی کے گھر والوں نے کہا ہو کہ آج تمہیں تمہاری پسند کی شاپنگ کروانی ہے، ہو سکتا ہے اس دن کسی بچے کا رزلٹ آنا ہو اور اس کے والدین نے اس سے یہ وعدہ کیا ہو کہ اگر تم فرسٹ آٸے تو تمہیں لیپ ٹاپ لیں دیں گے۔ سانحہ APS قوم کی ماٶں کے دلوں پر ہوا تھا۔ یہ ہر اس ماں کے دل سے پوچھو جو ایک بچہ پیدا کرنے سے لیکر جوان کرنے تک کن مشکلوں سے لڑتی ہے۔ کیا ایسا وہ اس لیے کرتی ہے کہ کوٸی بھی آٸے اور اتنی سفاکی سے اس کے لال کو مسل دے۔ نہیں نہیں بالکل نہیں!
کاش یہ قیامت نہ برپا ہوتی اور آج وہ ننھے پھول ہمارے درمیان موجود ہوتے۔ وہ استاد اور پرنسپل جو ان ننھے بچوں کو بچاتے اپنی جان دے بیٹھے وہ بھی آج ہمارے درمیان موجود ہوتے مگر 16دسمبر کو ہم سے جدا ہونے والے وہ 150 سے زاٸد پاکستانی تو ہمارے درمیان موجود نہیں مگر اپنی یادیں ضرور موجود ہیں۔ 4 سال بیت گٸے اور آج انکی یاد اسی طرح دل کو ستاتی ہے۔ دل بے ساختہ یہ کہہ بیٹھتا ہے کہ *جانے والے ہم تمہیں نہیں بھولے* اے میرے وطن کے باسی آٶ اس موقع پہ ہم یہ عہد کریں کہ جو کچھ بھی ہو جاٸے ہمیں پاکستان کے لیے ایک ہونا پڑے گا۔ اپنی ذاتی لڑاٸیاں پس پشت ڈال کے دشمن کے سامنے آہنی دیوار بننا ہو گا تاکہ ہماری آٸندہ آنے والے نسلوں کی ماٶں کو کوٸی خون کے آنسو نہ رلا سکے اور ایک سچے اور سُچے پاکستانی کی طرح وطن عزیز کی عزت و سربلندی کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔
حساب لوں گا میں چن کر ان سبھی مظالم کا
میں حشر میں بھی قیامت نٸی اٹھا دوں گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں