36

معاشی استحصال کرنے والوں کیلئے نظم، اسلم آفاق جنجوعہ

یہ بھان متی اور شعبدہ باز، کئی کئی روپ بدلتے ہیں
یہ ڈنکی منکی گامے ماجھے، ایک ہی گود میں پلتے ہیں
جب بات ہو اپنے مقصد کی، یہ فوری ایکشن کرتے ہیں
جب بات ہو حق ہمارے کی، یہ میٹنگ میٹنگ کرتے ہیں
مکھن مالش، کاسہ لیسی، شرط ہے آگے بڑھنے کی
اندھیر نگر کا چوپٹ راج، بس خاص الخاص ہی چلتے ہیں
سلامی زیادہ کرنے سے غرور بھی ان کا بڑھتا ہے
غلامی جن کی کرتے ہو، یہی تمہیں مسلتے ہیں
توقیر تو ان کی ہوتی ہے، جو ظرف بھی اعلی١ رکھتے ہوں
وہ قابل ِعزت کیونکر ہوں، جو رزق پہ نقب لگاتے ہیں
یہ چیلے چمچے دیگیں کڑچھے، دورنگی طبل بجاتے ہیں
ظاہراً تو یہ مخلص ہیں ، اندر سے بچھو ڈستے ہیں
ظلم بوسیدہ یکجا ہو جاو، مار ہے ایک ہی جھٹکے کی،
ٹوٹ نہ پائے عزم ہمارا ، جنگ حقوق کی لڑتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں