81

تبدیلی سرکار تے نماڑاں جھنگ تحریر ۔عمران خان

تبدیلی سرکار تے نماڑاں جھنگ
تحریر ۔عمران خان

نیا پاکستان بنتے ہی ملک بھر میں حکومت کی جانب سے چند ایک سنجیدہ اقدامات دیکھنے میں آئیں جن میں سے ایک سرکاری زمینوں پر با اثر افراد کے قبضے، فٹ پاتھ اور دیگر پبلک مقامات پر عرصہ کئی سالوں سے کیے جانے والے تجاوزات کیخلاف سخت اور فیصلہ کن آپریشن شامل ہے یہ آپریشن نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ لاہور، اسلام آباد، کراچی اورملک کے دیگر کئی چھوٹے، بڑے شہروں میں بھی کئے گئے اور کامیاب رہے۔ جھنگ کی انتظامیہ نے بھی اعلی حکام کی ہدایت پر آپریشن شروع کیا اور شہر کی اہم شاہرہوں پر سرکاری اراضی پر بنی چند ایک دوکانیں ،مکانات و دیگر عمارتوں کو مسمار کیا جس میں شہریوں کی جانب سے بھی مکمل تعاون رہا۔ روزانہ کی بنیاد پر بلدیہ ٹیم، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس اور واپڈا سمیت دیگر تمام متعلقہ اداروں کے افسران و اہلکاران سٹرکوں پر ان تجاوزات کیخلاف آپریشن کرتے دیکھائی دیے اور یو صرف چند فٹ کی سٹرکیں بڑے ہائی وے جیسے لگنے لگی ،، شہر میں کئی کئی گھنٹے تک ٹریفک کا بلاک رہنا بھی خاصہ کم ہوگیا مگر چند روز بعد اچانک آپریشن کو بند کردیا گیا جس کے بعد یہ افوائیں گردش کرنے لگیں کہ یہ آپریشن سیاسی مداخلت کے باعث روکا گیا ہے مگر کسی بھی سیاسی وڈیرے نے اسکی ذمہ داری نہ لی اور آپریشن بھی ایسا روکا کہ دوبارہ شاہد اب کبھی نہ ہو۔ مگر جھنگ میں ہونے والاتجاوزات اور سرکاری اراضی واگزارکروانے والا آپریشن اور دیگر کئی شہروں میں ہونے والے آپریشن میں چند ایک تضاد دیکھنے کو ملا دیگر شہروں میں سرکاری اراضی پر بنی پرائیویٹ ہاوسنگ کالونیاں اور پرائیویٹ اسپتالوں اور دیگر بڑی بڑی عماراتوں کو گرا کر سرکاری اراضی واگزار کر وائی گئی مگر جھنگ میںیہ آپریشن صرف چھاپڑی فروشوں، دوکانوں کے باہر لگے سٹالز اور چند ایک دوکانوں کو گرانے تک محدود رہا ، اللہ جانے جھنگ کی انتظامیہ کو شہر کی معروف شاہراہ یوسف شاہ روڈ کے ساتھ بنے جٹیانہ قبرستان کی اراضی پر بنی دوکانیں ، مذہبی جماعت کا دفترگاڑیوں کی پارکنگ اوربا اثرافراد کے پختہ مکانات نظر کیوں نہیں آئے شاہد شہر کی ایک اہم شخصیت نے قبرستان کی اراضی پراپنے ہوٹل کے لیے پارکنگ بنائی ہوئی تھی اس لیے کیونکہ بڑاہوٹل ہے کھانا بھی بڑے لوگ کھاتے ہونگے چلیں یہ تو بات سمجھنے والی ہے مگر گوجرہ روڈ پر واقعہ ایک پرائیویٹ اسپتال کے مالک نے بھی تو سرکاری گلی بند کرکے اسے اپنے اسپتال کاحصہ بنایا ہوا ہے یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے۔آپریشن انتظامیہ کو سیٹلائٹ کے علاقہ میں بنی پرائیویٹ ہاوسنگ کالونیوں کے مالکان کی جانب سے سرکاری اراضی پر کیے جانے والے قبضے بھی نظر نہ آئے اور نہ ہی ٹوبہ روڈ پر مقامی شوگر مل کے قریب سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضہ نظر آیا ،جھنگ انتظامیہ کا سرکاری اراضی کو واگزار کروانے کیلئے کیا جانے والا آپریشن کئی سوالات چھوڑ گیا ۔مگر کیا کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ نماڑاں جھنگ ہے جس کی آواز نہ تو عوامی نمائندوں کی اسمبلی تک پہنچتی ہے اور نہ ہی ملک کے بڑے قاضی کی عدالت تک (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں